یوم اقبال اتوار ١٣ نومبر ٢٠١١ صبح دس بجے فاران کلب

5 November 2011
یوم اقبال اتوار ١٣ نومبر ٢٠١١ صبح دس بجے فاران کلب

یوم اقبال اتوار ١٣ نومبر ٢٠١١ صبح دس بجے فاران کلب

یوم اقبال اتوار ١٣ نومبر ٢٠١١ صبح دس بجے فاران کلب

4 November 2011

گیسو ئے تابدار کو اور بھی تابدار کر

ہوش و خرد شکار کر قلب و نظر شکار کر

نغمۂ نو بہار اگر میرے نصیب میں نہ ہو

اس دمِ نیم سوز کو طائرکِ بہار کر

…………………………………………….

السلام علیکم

کاروان اقبال

کے زیر اہتمام

یوم اقبال
کے حوالہ سے 13 نومبر 2011 بروز اتوار صبح 10 بجے فاران کلب انٹرنیشنل میں پروگرام کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔

نوجوان صحافی اور دانشورجناب سہیل جمالی

ممتاز شاعر و دانشورجناب ذکاءالرحمٰن صاحب

کے علاوہ کلیدی خطاب کے لئے معروف دانشور

جناب شاہنواز فاروقی صاحب

ہمارے درمیان ہوں گے۔

آپ سے بر وقت شرکت کی درخواست ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اہتمام : کاروان اقبال و فاران کلب انٹر نیشنل کراچی

۔۔۔۔۔۔۔۔

کاروان اقبال کے زیر اہتمام یوم اقبال …..13 نومبر 2011 اتوار صبح 10 بجے فاران کلب انٹرنیشنل کراچی

4 November 2011

گیسو ئے تابدار کو اور بھی تابدار کر

ہوش و خرد شکار کر قلب و نظر شکار کر

نغمۂ نو بہار اگر میرے نصیب میں نہ ہو

اس دمِ نیم سوز کو طائرکِ بہار کر

…………………………………………….

السلام علیکم

کاروان اقبال

کے زیر اہتمام

یوم اقبال
کے حوالہ سے 13 نومبر 2011 بروز اتوار صبح 10 بجے فاران کلب انٹرنیشنل میں پروگرام کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔

نوجوان صحافی اور دانشورجناب سہیل جمالی

ممتاز شاعر و دانشورجناب ذکاءالرحمٰن صاحب

کے علاوہ کلیدی خطاب کے لئے معروف دانشور

جناب شاہنواز فاروقی صاحب

ہمارے درمیان ہوں گے۔

آپ سے بر وقت شرکت کی درخواست ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ظفر اقبال

0300-3615547
ندیم اقبال ایڈووکیٹ 0300-8294489
شکیل خان

اس دور میں تعلیم ہے امراضِ ملت کی دوا

4 April 2010

شاعر مشرق

اس دور میں تعلیم ہے امراضِ ملت کی دوا
محمد اشرف بٹ بھلیسی

اس دور میں تعلیم ہے امراضِ ملت کی دوا
ہے خونِ فاسد کے لئے تعلیم مثلِ نیشتر

اقبال اگر چہ ایک باضابطہ ماہر تعلیم نہیں ہیں، لیکن اُن کی کلیات میںموجود سبھی شعری مجموعوں میںتعلیمی تصورات جابجا نمایاں ہیں۔ اقبال ایک آفاقی شاعر ہیں اور اُنہوںنے اپنی شعری صلاحیتوں کو بطور ِ خاص تعلیمی نظام اور تعلیمی مقاصد کے لئے بھی استعمال کیا ہے ۔اگرچہ دُنیا کاہر ادیب زماں ومکاں میںقید ہوتا ہے یعنی وہ ایک خاص دور کی بات کرتا ہے اور ایک خاص جغرافیائی خطےِ پر مبنی اپنے خیالات پیش کرتا ہے ۔کوشش کے باوجود وہ زماں ومکاں کی زنجیر سے آزاد نہیںہوپاتا ۔لیکن علامہ اقبال کامعاملہ ایک جُدا گانہ ہے۔اقبال کاعہد چونکہ انگریزوںکاعہد تھا پورے ملک کی سماجی‘ اقتصادی ،معاشی اور معاشرتی فضاکروٹ بدل رہی تھی ۔اگرچہ تمام ادیبوں نے حالات اوروقت کے تقاضوں کومدِ نظر رکھ کر اپنے افکار پیش کئے ۔اقبال نے بھی ان ہی درپیش حالات کومحسوس کیا لیکن اپنے افکار اس طرح پیش کئے کہ زماں ومکان کی قید سے آزاد ہوکر ہردور اورہرملک کی ضرورت کوپورا کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ وہ ہندوستان کی غلامی کوبے عملی ،بے علمیِ اور جہالت کاسبب قرار دیتے ہیں ۔اقبال تعلیم وتربیت کے ساتھ ساتھ عمل کوزیادہ تر جیح دیتے ہیں۔اُن کے نزدیک ہر طرح کی تربیت رائیگاں ہے اگراُس پرعمل نہ کیاجائے اوراپنے ذوق ِ وجدان کوکام میں لانا ہی سب سے بڑی کامیابی ہے عملی طورپراپنے آپ کواستعمال میں لانا ہی علم کی سب سے بڑی منزل ہے۔ اُن کے نزدیک زندگی فطرتاً نہ ہی نیک ہے اورنہ ہی بد،بلکہ یہ سب اعمال کانتیجہ ہے ۔بقول شاعر
عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی
یہ خاکی اپنی فطرت میںنہ نوری ہے نہ ناری ہے

علامہ اقبال روحانیت کے بھی بہت قائل ہیں،اگر ان کو Spritualist (Naturalist) اورPragmatistکے علاوہ Idealistبھی کہا جائے توبے جانہ ہوگا ،لیکن تعلیمی نظام کے تیسرے پہلویعنی ماحول اور رہن سہن کوبھی بہت حد تک طلبہ کی تربیت کاذمے دار ٹھہراتے ہیں۔ وہ کسی روحانی شخصیت کاشفقت بھراہاتھ بھی کرامات سے لبریزمحسوس کرتے ہیں لیکن مکتب کی کرامت پراُنہیں کافی بھروسہ ہے۔اوّل طالب علمِ کاہونابہت ضروری ہے وہ بھی حساس اورپرجوِش طالبِ علم ۔اس کے بعد مدرس ،جوایک ناتراشے پتھرکوایک حسین شکل دینے کاہنررکھتا ہے۔ ماہرین تعلیم نے اگرچہ اب ماحول کونظام تعلیم کاتیسرا پہلوقراردیاہے۔لیکن اقبال اس تیسرے پہلو کی ترجمانی بہت پہلے سے کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ اوراسلامی نظام تعلیم سے اس کی مثالیں دے کریہ ثابت کرتے ہیں کہ اسلام فرمابرداری اورایثار وقربانی کی تعلیم ازل سے دیتا
آیاہے۔جوایک طالب علم کاخاصہ ہوتا ہے
یہ فیضانِ نظر تھا یاکہ مکتب کی کرامت تھی
سکھائے کس نے اسماعیلؑ کوآدابِ فرزندی

اقبال کاتعلیمی تصّور عشق وعقل دونوںپر مبنی ہے۔اقبال تعلیم کے حوالے سے عشق کوایک لازمی جُز قراردیتے ہیں۔کیوںکہ عشق کی تڑپ او رگری وشدت تحصیل علم میںوہ کام کرتی ہے،جوکام گھوڑا چلانے کے لئے چابک کرتا ہے۔ اس ہی لئے یہ نسبت عقل کے عشق کو پائندہ وابدی قراردیتے ہیں۔
بے خطر کود پڑا آتشِ نمرود میں عشق
عقل ہے محوِ تماشائے لبِ بام ابھی
علم وعشق
علم نے مجھ سے کہاعشق ہے دیوانہ پن!
عشق نے مُجھ سے کہاعلم ہے تخمین ِوطن!
بندئہ تخمین وطن!کرم کتابی نہ بن!
عشق سراپا حضور، علم سراپا حجاب
عشق کی گرمی سے معرکہ کائنات!
علم مقامِ صفات ،عشق تماشائے ذات!
عشق سکون وثبات ،عشق حیات وعمات!
علم ہے پیداسوال،عشق ہے پنہاں جواب
اس کامطلب یہ نہیںکہ ہمیشہ دل سے اورعشق کے فیصلے سے ہی کام لیاجائے عقل بھی علامہ اقبال کے نزدیک عشق کی پاسبانی کرتی ہے۔ جوسودورزیاںکے بارے میں ہمیشہ تگ دود کرتی ہے۔ اقبال اس بات کے بھی قائل ہیںکہ عقل رہنمائی کاکام کرتی ہے۔ اورعشق کو جلابخشی ہے۔ لیکن عقل سودوریاں میں گرفتار ہمیشہ اُلجھن کاشکار ہوتی ہے۔ بحرحال تحصیل علم میں عشق ایک وجدانی قوت ہے، جس کوبروکار لاکر طالبِ علمِ ناممکن کام انجام دے سکتا ہے،اس ہی لئے اقبال کے ہاں عشق کو عقل پر برتری حاصل ہے
لازم ہے دل کے ساتھ رہے پاسبانِ عقل
لےکن کبھی کبھی اسے تنہابھی چھوڑدے
اقبال اگرچہ بہ نسبت عقل کے عشق پرزیادہ زوردیتے ہیں ،لیکن ہمیشہ خُدا سے دلِ بینا کی طلب کرتے ہیں۔ کیوں کہ غلام کے نزدیک دل کانور کچھ اور ہے اورآنکھ کانور کچھ اور
دل بینا بھی کر خُدا سے طلب
آنکھ کا نور دِل کا نور نہیں
علم میں بھی سرور ہے لیکن
یہ وہ جنت ہے جس میں حور نہیں
گوہر نے صدف کو توڑ دیا
توہی آمادہ ظہور نہیں
اقبال کے نزدیک تحصیلِ علم کاسب سے اہم جُز یہ ہے کہ انسان کے اندر عشق کاجذبہ کارفرما ہو۔اُنکے سامنے تعلیم کامقصد یہ ہے کہ جس طرح ایک گوہر صدف کے اندر مختلف آلام ومصائب جھیل کراور مختلف مراحل سے گزر کرظہورپذیر ہوتا ہے اورپھر وہ اپنی اصل شناخت ظاہر کرسکتا ہے۔ اُسی طرح ایک طالب ِ علم بھی علم کی تکمیل کے بعد اپنا اصلی جوہرسامنے لاتا ہے۔اوردُنیا کے سامنے اپنا وجود ظاہرکرسکتا ہے۔ تاکہ وہ اپنی بات دُنیا کے سامنے کہہ سکے اورمنواسکے۔
علامہ اقبال غوروفِکر کے عادی تھے وہ کبھی بھی تفکر سے چھٹکارہ نہیںپاسکتے تھے۔ افکارِ پر یشاں کوجلابخشی اورایک کامیاب راہ پر گامزن کرنے کے لئے اقبال مرشدِ کامل اورمدرس سے کاسہارا لیناچاہتے تھے۔ اپنے دور کے تعلیمی ادراروںمیںانہیں فکرِ وفلسفہ ناپید دیکھائی دیتا ہے۔اور ہمیشہ شکایت کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیںکہ افکار پریشان کیوںکر کارگر ثابت ہوسکتے ہیں جبکہ کسی مرشدِ کامل کاسایہ طالب علم پرنہ ہویامدرسہ افکار کی رعنائی واسرار کی لذت سے بے نیاز ہو ۔بقول ِ اقبال
مکتبوں میںکبھی رعنائی افکار بھی ہے
خانقاہوں میں کہیں لذت اسرار بھی ہے
کیے ہیںفاش رموزِ قلندری میںنے
کہ فِکر مدرسہ و خانقاہ ہو آزاد
علامہ اقبال آنے والے کل کی ذمہ داری بھی تعلیم کے سردیتے ہیں۔ملک وقوم کی تقدیر اگر چہ بدلنی مقصود ہے تو مدرسہ ومکتب اس کی ذمے دار بہت حد تک ہے اقبال کے بقول مستقبل چاہیے قوموں کاہویاکسی ایک فردواحدکا ،ماضی اورحال کے ساتھ اس کی ذمہ دارتعلیم ہوتی ہے۔ مستقبل کوسنوارنے اور نکھارنے کے لئے ماضی اور حال دونوں کی کوششیں بروئے کار لائی جاسکتی ہیں لیکن اس بات کوسمجھنے کےلئے علامہ چشمِ بنا کاتصور پیش کرتے ہیں ۔ازل سے یہ بات غورطلب ہی نہیںبلکہ بہت اہم بھی ہے کہ حالات اورزمانے کے بدلے واقعات کومحسوس کیاجائے ،زمانے کے تقاضوں اورزمانے کی ضرورتوں کوسمجھ کر ہی انسان اپنے مستقبل کوبہتر طریقے سے سنوار سکتا ہے علامہ اقبال مکتب کے ذمے یہ کام بھی سونپتے ہیں کہ آنے والے کل کے تقاضوں کوسمجھ کر اُن تمام ضرورتوںکوپورا کیاجائے ،جو حالات ووقت کاتقاضا ہو۔اقبال کوبیسویں صدی کے ابتدائی مدرسوں او رمکتبوںسے شکایت ہے کہ وہ ہنگامہ فردا کی لذت سے قطعاً محروم ہیں۔بقول اقبال
کس کو معلوم ہے ہنگامئہ فردا کامقام
مسجد ومکتب ومے خانہ ہیں مدت سے خاموش
جہاں تک چشمِ بینا کاتعلق ہے ،اس کے وجود اوراس کی تکمیل کے لئے بھی مکتب کی ہی کرامات درکار ہیں۔مکتب اپنی کرامات اوراپنے موثر کردار سے ایک ناتراشے پتھر سے ہےراتیار کرتا ہے ،اور کندذہن کوذہن رِسا عطا کرکے بڑے بڑے عالم وحکیم اُمت پیدا کرتا ہے۔اقبال نے بصیرت کی جس آنکھ کاذکر کیا ہے،وہ آنکھ ہی زمانے اور حالات کے بدلتے تقاضوں کومحسوس کرسکتی ہے، اوروہ بصیرت کی آنکھ مکتب ومدرسہ کی ہی کرامات وجلوے پر منحصر ہے۔
پردوں میںچھپا کیا ہے چشمِ بینا دیکھ لیتی ہے
زمانے کی طبیعت کا تقاضا دیکھ لیتی ہے
اقبال تعلیم کی ہمہ گیر ترقی ونشونماکے قائل ہیں۔تعلیم وتربیت سے ‘اُن کی رائے یہ ہے کہ زندگی کے تمام پہلوں کی نشوونماہو ۔ ملک وقوم اورہر فرد وبشر کے تقاضے نظام تعلیم سے سنوارے جائیں۔ اُن کاتعلیمی مقصد یہ ہے کہ ہر انسان کی زندگی اُس کاایک انفرادی حادثہ نہیںہے۔بلکہ یہ ایک اجتماعی حصہ داری ہے جس میںسماج کے ہر فردوبشرکی مداخلت ہوسکتی ہے۔ ایک انسان اپنی انفرادی زندگی سے سینکڑوں چہروں سے مسکراہٹ چھین بھی سکتا ہے اور اُن کے مغموم لبوں پر تبسم کی لہر بھی دوڑاسکتا ہے۔ اقبال کے ہاں ہمہ گیر نشوونما ترقی کامطلب بھی یہ ہے کہ انسان زندگی کے ‘سیاسی ،سماجی معاشی اور اخلاقی وغیر تمام پہلوں کی یکساںنشوونما ہو ۔لیکن اس ترقی کے سلسلے میں اقبال کبھی بھی پرانی قدروں سے بے زار نہیں ہوتے۔وہ کبھی بھی اپنے تہذیب وتمدن کے اثاثے کوکھونا نہیں چاہتے۔
لڑکیاں پڑھ رہی ہیں انگریزی
ڈھونڈلی قوم نے فلاح کی راہ
روشِ مغربی ہے مدِ نظر
وضعِ مشرق کو جانتے ہیں گناہ
یہ ڈراما دکھائے گا کیا سین
پردہ اُٹھنے کی منتظر ہے نگاہ
دیارمغرب کے رہنے والوخُدا کی بستی دکاں نہیںہے
کھراجسے تم سمجھ رہے ہووہ اب ذرِ کم عیارہوگا
تمہاری تہذیب اپنے خنجر سے آپ ہی خود کشی کرے گی
جوشاخِ نازک پہ آشیانہ بنے گاناپائیدارکاہوگا
اقبال کی شاعری کاعہدانیسویںصدی کی آخری دہائی اوربیسویںصدی کااوائل عہد تھا ۔اقبال نے اُس زمانے کے سماجی،سیاسی اورمعاشی قدرے تمام حالات اپنی تحریروںمیںپیش کئے ہیں۔ شعراءجوکہ حساس دل ہوتے ہیں اورہربات کوتہہ تک محسوس کرتے ہیں۔اقبال چونکہ دانائے راز، حکیم اُمت اورتفکرِ قوم تھے۔ اُنہوںنے اپنی چشم بیناسے ایسے دور کے مدرسوں کی سیاسی اورتعلیمی صورتِ حال کاجائزہ لیا ہے اوروہ کسی بھی صورت میںمدرسوں کوسیاست کاشکار ہوتے ہوئے دیکھنا نہیں چاہتے۔ مدرسہ کی آزادی ہی اُن کے نزدیک ترقی کی ضامن ہے ۔اقبال مدرسہ کوکبھی بھی مطلب پرستی اورخود غرضی کے لئے استعمال نہیں کراناچاہتے ۔بلکہ مدرسہ اپنی آزادی اورخودمختیاری کی بنیادوں پر سماج کے ہر فردوبشر کی ضرورتوں کوپور اکرنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔ اُنہیں ہمیشہ ،بہ نسبت ماضی کے اپنے دور کے مدرسوں پرشکایت ہے جوفریب،مطلب پرستی اورخودغرضی کاشکارہوئے ہیں
تھا جہاں مدرسہ شیری و شاہنشاہی
آج ان خانقاہوں میں ہے فقط روباہی
جلوتےانِ مدرسہ کورنگاہ ومردہ ذوق
خلوتیان میکدہ کم طلب و تہی کُدو
اقبال ہمیشہ مدرسوںاورمکتبوں سے نالاں رہے جہاں ملوکانہ تعلیم کے بجائے معکومی کی تعلیم دی جاتی ہے ۔یہ شکایت اُنہیں ہمیشہ رہی اوردم آخر تک اس کاازالہ نہ ہوسکا ۔ مدرسوں میںمحکومی کی تربیت طلبہ کے حق میں زہر ہے او راس طرح اُن کی خودی اُجاگر ہونے کے بجائے تلف ہوکررہتی ہے۔
ہندی مکتب
اقبال !یہاں نام نہ لے علمِ خودی کا
موزوںنہیں مکتب کے لئے ایسے مقالات
بہتر ہے کہ بچارے ممولوں کی نظر سے
پوشیدہ رہیں باز کے احوال ومقامات
آزاد کی اک آن ہے محکوم کااک سال
کس درجہ گراں سےر ہیںمحکوم کے اوقات
آزاد کاہر لخط پیام ِابدیت
محکوم کاہر لحظ نئی مرگِ مفاجات!
آزاد کا اندیشہ حقیقت سے مُنوّر
محکوم کا اندیشہ گرفتار خرافات
محکوم کو پیروں کی کرامات کا سودا
ہے بند‘آزاد خود اک زندہ کرامات
محکوم کے حق میں ہے یہ ہی تربیت اچھی
موسیقی و صورت گری و علمِ نباتات
اقبال کی لفظ ذہانت کے بھی بہت قائل ہیںاُن کے ہاں ذہانت ایک خداداد نعمت ہے صرف تعلیم وتربیت طلبہ کوسنوارنے سے قاصر رہتی ہے اگرچہ اُن کی طبعیت سنورنے کی طرف مائل نہ ہو ۔ اقبال کی شاعری میںذہانت کے مختلف درجوں کا سراغ بھی ملتا ہے اور انسان اگرچہ خود ہی تربیت کی طرف مائل نہیںتو وہ کبھی بھی ترقی ونشوونماں کی طرف نہیں بڑھ سکتا ہے۔
نہیں طبیعت ہی جن کی مائل وہ تربیت سے نہیںسنورتے
ہوانہ سرسبز رہ کے پانی میں عکسِ سرو کنارِ جو کا
کیا ہے تُجھ کوکتابوں نے کورزوق اتنا
صبا سے بھی نہ مِلا تُجھ کوبوئے گُل کاسُراغ
بشکریہ
روزنامہ کشمیر عظمیٰ
سری نگر

نشاں يہي ہے زمانے ميں زندہ قوموں کا

22 March 2010

نشاں يہي ہے زمانے ميں زندہ قوموں کا
کہ صبح و شام بدلتي ہيں ان کي تقديريں
کمال صدق و مروت ہے زندگي ان کي
معاف کرتي ہے فطرت بھي ان کي تقصيريں
قلندرانہ ادائيں، سکندرانہ جلال
يہ امتيں ہيں جہاں ميں برہنہ شمشيريں
خودي سے مرد خود آگاہ کا جمال و جلال
کہ يہ کتاب ہے، باقي تمام تفسيريں
شکوہ عيد کا منکر نہيں ہوں ميں، ليکن
قبول حق ہيں فقط مرد حر کي تکبيريں
حکيم ميري نواؤں کا راز کيا جانے
ورائے عقل ہيں اہل جنوں کي تدبيريں

شمع اور شاعر

22 March 2010

شمع اور شاعر
فروري 1912ء

شاعر

دوش مي گفتم بہ شمع منزل ويران خويش
گيسوے تو از پر پروانہ دارد شانہ اے
درجہاں مثل چراغ لالہ صحراستم
نے نصيب محفلے نے قسمت کاشانہ اے
مدتے مانند تو من ہم نفس مي سوختم
در طواف شعلہ ام بالے نہ زد پروانہ اے
مي تپد صد جلوہ در جان امل فرسودم ن
بر نمي خيزد ازيں محفل دل ديوانہ اے
از کجا ايں آتش عالم فروز اندوختي
کرمک بے مايہ را سوز کليم آموختي

شمع

مجھ کو جو موج نفس ديتي ہے پيغام اجل
لب اسي موج نفس سے ہے نوا پيرا ترا
ميں تو جلتي ہوں کہ ہے مضمر مري فطرت ميں سوز
تو فروزاں ہے کہ پروانوں کو ہو سودا ترا
گريہ ساماں ميں کہ ميرے دل ميں ہے طوفان اشک
شبنم افشاں تو کہ بزم گل ميں ہو چرچا ترا
گل بہ دامن ہے مري شب کے لہو سے ميري صبح
ہے ترے امروز سے نا آشنا فردا ترا
يوں تو روشن ہے مگر سوز دروں رکھتا نہيں
شعلہ ہے مثل چراغ لالہء صحرا ترا
سوچ تو دل ميں ، لقب ساقي کا ہے زيبا تجھے؟
انجمن پياسي ہے اور پيمانہ بے صہبا ترا!
اور ہے تيرا شعار ، آئين ملت اور ہے
زشت روئي سے تري آئينہ ہے رسوا ترا
کعبہ پہلو ميں ہے اور سودائي بت خانہ ہے
کس قدر شوريدہ سر ہے شوق بے پروا ترا
قيس پيدا ہوں تري محفل ميں يہ ممکن نہيں
تنگ ہے صحرا ترا ، محمل ہے بے ليلا ترا
اے در تابندہ ، اے پروردہء آغوش موج!
لذت طوفاں سے ہے نا آشنا دريا ترا
اب نوا پيرا ہے کيا ، گلشن ہوا برہم ترا
بے محل تيرا ترنم ، نغمہ بے موسم ترا
تھا جنھيں ذوق تماشا ، وہ تو رخصت ہو گئے
لے کے اب تو وعدہ ديدار عام آيا تو کيا
انجمن سے وہ پرانے شعلہ آشام اٹھ گئے
ساقيا! محفل ميں تو آتش بجام آيا تو کيا
آہ ، جب گلشن کي جمعيت پريشاں ہو چکي
پھول کو باد بہاري کا پيام آيا تو کيا
آخر شب ديد کے قابل تھي بسمل کي تڑپ
صبحدم کوئي اگر بالائے بام آيا تو کيا
بجھ گيا وہ شعلہ جو مقصود ہر پروانہ تھا
اب کوئي سودائي سوز تمام آيا تو کيا
پھول بے پروا ہيں ، تو گرم نوا ہو يا نہ ہو
کارواں بے حس ہے ، آواز درا ہو يا نہ ہو
شمع محفل ہو کے تو جب سوز سے خالي رہا
تيرے پروانے بھي اس لذت سے بيگانے رہے
رشتہ الفت ميں جب ان کو پرو سکتا تھا تو
پھر پريشاں کيوں تري تسبيح کے دانے رہے
شوق بے پروا گيا ، فکر فلک پيما گيا
تيري محفل ميں نہ ديوانے نہ فرزانے رہے
وہ جگر سوزي نہيں ، وہ شعلہ آشامي نہيں
فائدہ پھر کيا جو گرد شمع پروانے رہے
خير ، تو ساقي سہي ليکن پلائے گا کسے
اب نہ وہ مے کش رہے باقي نہ مے خانے رہے
رو رہي ہے آج اک ٹوٹي ہوئي مينا اسے
کل تلک گردش ميں جس ساقي کے پيمانے رہے
آج ہيں خاموش وہ دشت جنوں پرور جہاں
رقص ميں ليلي رہي ، ليلي کے ديوانے رہے
وائے ناکامي! متاع کارواں جاتا رہا
کارواں کے دل سے احساس زياں جاتا رہا
جن کے ہنگاموں سے تھے آباد ويرانے کبھي
شہر ان کے مٹ گئے آبادياں بن ہو گئيں
سطوت توحيد قائم جن نمازوں سے ہوئي
وہ نمازيں ہند ميں نذر برہمن ہو گئيں
دہر ميں عيش دوام آئيں کي پابندي سے ہے
موج کو آزادياں سامان شيون ہو گئيں
خود تجلي کو تمنا جن کے نظاروں کي تھي
وہ نگاہيں نا اميد نور ايمن ہوگئيں
اڑتي پھرتي تھيں ہزاروں بلبليں گلزار ميں
دل ميں کيا آئي کہ پابند نشيمن ہو گئيں
وسعت گردوں ميں تھي ان کي تڑپ نظارہ سوز
بجلياں آسودہء دامان خرمن ہوگئيں
ديدہء خونبار ہو منت کش گلزار کيوں
اشک پيہم سے نگاہيں گل بہ دامن ہو گئيں
شام غم ليکن خبر ديتي ہے صبح عيد کي
ظلمت شب ميں نظر آئي کرن اميد کي
مژدہ اے پيمانہ بردار خمستان حجاز!
بعد مدت کے ترے رندوں کو پھر آيا ہے ہوش
نقد خودداري بہائے بادہء اغيار تھي
پھر دکاں تيري ہے لبريز صدائے نائو نوش
ٹوٹنے کو ہے طلسم ماہ سيمايان ہند
پھر سليمي کي نظر ديتي ہے پيغام خروش
پھر يہ غوغا ہے کہ لاساقي شراب خانہ ساز
دل کے ہنگامے مےء مغرب نے کر ڈالے خموش
نغمہ پيرا ہو کہ يہ ہنگام خاموشي نہيں
ہے سحر کا آسماں خورشيد سے مينا بدوش
در غم ديگر بسوز و ديگراں را ہم بسوز
گفتمت روشن حديثے گر تواني دار گوش
کہہ گئے ہيں شاعري جزو يست از پيغمبري
ہاں سنا دے محفل ملت کو پيغام سروش
آنکھ کو بيدار کر دے وعدہ ديدار سے
زندہ کر دے دل کو سوز جوہر گفتار سے
رہزن ہمت ہوا ذوق تن آساني ترا
بحر تھا صحرا ميں تو ، گلشن ميں مثل جو ہوا
اپني اصليت پہ قائم تھا تو جمعيت بھي تھي
چھوڑ کر گل کو پريشاں کاروان بو ہوا
زندگي قطرے کي سکھلاتي ہے اسرار حيات
يہ کبھي گوہر ، کبھي شبنم ، کبھي آنسو ہوا
پھر کہيں سے اس کو پيدا کر ، بڑي دولت ہے يہ
زندگي کيسي جو دل بيگانہء پہلو ہوا
فرد قائم ربط ملت سے ہے ، تنہا کچھ نہيں
موج ہے دريا ميں اور بيرون دريا کچھ نہيں
پردہ دل ميں محبت کو ابھي مستور رکھ
آبر باقي تري ملت کي جميعت ہے تھي
جب يہ جميعت گئي ، دنيا ميں رسوا تو ہوا
يعني اپني مے کو رسوا صورت مينا نہ کر
خيمہ زن ہو وادي سينا ميں مانند کليم
شعلہ تحقيق کو غارت گر کاشانہ کر
شمع کو بھي ہو ذرا معلوم انجام ستم
صرف تعمير سحر خاکستر پروانہ کر
تو اگر خود دار ہے ، منت کش ساقي نہ ہو
عين دريا ميں حباب آسا نگوں پيمانہ کر
کيفيت باقي پرانے کوہ و صحرا ميں نہيں
ہے جنوں تيرا نيا، پيدا نيا ويرانہ کر
خاک ميں تجھ کو مقدر نے ملايا ہے اگر
تو عصا افتاد سے پيدا مثال دانہ کر
ہاں ، اسي شاخ کہن پر پھر بنا لے آشياں
اہل گلشن کو شہيد نغمہ مستانہ کر
اس چمن ميں پيرو بلبل ہو يا تلميذ گل
يا سراپا نالہ بن جا يا نوا پيدا نہ کر
کيوں چمن ميں بے صدا مثل رم شبنم ہے تو
لب کشا ہو جا ، سرود بربط عالم ہے تو
آشنا اپني حقيقت سے ہو اے دہقاں ذرا
دانہ تو ، کھيتي بھي تو ، باراں بھي تو ، حاصل بھي تو
آہ ، کس کي جستجو آوارہ رکھتي ہے تجھے
راہ تو ، رہرو بھي تو، رہبر بھي تو ، منزل بھي تو
کانپتا ہے دل ترا انديشہء طوفاں سے کيا
ناخدا تو ، بحر تو ، کشتي بھي تو ، ساحل بھي تو
ديکھ آ کر کوچہء چاک گريباں ميں کبھي
قيس تو، ليلي بھي تو ، صحرا بھي تو، محمل بھي تو
وائے ناداني کہ تو محتاج ساقي ہو گيا
مے بھي تو، مينا بھي تو، ساقي بھي تو، محفل بھي تو
شعلہ بن کر پھونک دے خاشاک غير اللہ کو
خوف باطل کيا کہ ہے غارت گر باطل بھي تو
بے خبر! تو جوہر آئينہء ايام ہے
تو زمانے ميں خدا کا آخري پيغام ہے
اپني اصليت سے ہو آگاہ اے غافل کہ تو
قطرہ ہے ، ليکن مثال بحر بے پاياں بھي ہے
کيوں گرفتار طلسم ہيچ مقداري ہے تو
ديکھ تو پوشيدہ تجھ ميں شوکت طوفاں بھي ہے
سينہ ہے تيرا اميں اس کے پيام ناز کا
جو نظام دہر ميں پيدا بھي ہے ، پنہاں بھي ہے
ہفت کشور جس سے ہو تسخير بے تيغ و تفنگ
تو اگر سمجھے تو تيرے پاس وہ ساماں بھي ہے
اب تلک شاہد ہے جس پر کوہ فاراں کا سکوت
اے تغافل پيشہ! تجھ کو ياد وہ پيماں بھي ہے ؟
تو ہي ناداں چند کليوں پر قناعت کر گيا
ورنہ گلشن ميں علاج تنگي داماں بھي ہے
دل کي کيفيت ہے پيدا پردہء تقرير ميں
کسوت مينا ميں مے مستور بھي ، عرياں بھي ہے
پھونک ڈالا ہے مري آتش نوائي نے مجھے
اورميري زندگاني کا يہي ساماں بھي ہے
راز اس آتش نوائي کا مرے سينے ميں ديکھ
جلوہ تقدير ميرے دل کے آئينے ميں ديکھ!
آسماں ہوگا سحر کے نور سے آئينہ پوش
اور ظلمت رات کي سيماب پا ہو جائے گي
اس قدر ہوگي ترنم آفريں باد بہار
نکہت خوابيدہ غنچے کي نوا ہو جائے گي
آمليں گے سينہ چاکان چمن سے سينہ چاک
بزم گل کي ہم نفس باد صبا ہو جائے گي
شبنم افشاني مري پيدا کرے گي سوز و ساز
اس چمن کي ہر کلي درد آشنا ہو جائے گي
ديکھ لو گے سطوت رفتار دريا کا مآل
موج مضطر ہي اسے زنجير پا ہو جائے گي
پھر دلوں کو ياد آ جائے گا پيغام سجود
پھر جبيں خاک حرم سے آشنا ہو جائے گي
نالہء صياد سے ہوں گے نوا ساماں طيور
خون گلچيں سے کلي رنگيں قبا ہو جائے گي
آنکھ جو کچھ ديکھتي ہے ، لب پہ آ سکتا نہيں
محو حيرت ہوں کہ دنيا کيا سے کيا ہو جائے گي
شب گريزاں ہو گي آخر جلوہ خورشيد سے
يہ چمن معمور ہوگا نغمہ توحيد سے

بڈھے بلوچ کي نصيحت بيٹے کو

22 March 2010

بڈھے بلوچ کي نصيحت بيٹے کو

ہو تيرے بياباں کي ہوا تجھ کو گوارا
اس دشت سے بہتر ہے نہ دلي نہ بخارا
جس سمت ميں چاہے صفت سيل رواں چل
وادي يہ ہماري ہے، وہ صحرا بھي ہمارا
غيرت ہے بڑي چيز جہان تگ و دو ميں
پہناتي ہے درويش کو تاج سر دارا
حاصل کسي کامل سے يہ پوشيدہ ہنر کر
کہتے ہيں کہ شيشے کو بنا سکتے ہيں خارا
افراد کے ہاتھوں ميں ہے اقوام کي تقدير
ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارا
محروم رہا دولت دريا سے وہ غواص
کرتا نہيں جو صحبت ساحل سے کنارا
ديں ہاتھ سے دے کر اگر آزاد ہو ملت
ہے ايسي تجارت ميں مسلماں کا خسارا
دنيا کو ہے پھر معرکہء روح و بدن پيش
تہذيب نے پھر اپنے درندوں کو ابھارا
اللہ کو پامردي مومن پہ بھروسا
ابليس کو يورپ کي مشينوں کا سہارا
تقدير امم کيا ہے، کوئي کہہ نہيں سکتا
مومن کي فراست ہو تو کافي ہے اشارا
اخلاص عمل مانگ نيا گان کہن سے
‘شاہاں چہ عجب گر بنوازند گدا را!’

بزم انجم

22 March 2010

بزم انجم

سورج نے جاتے جاتے شام سيہ قبا کو
طشت افق سے لے کر لالے کے پھول مارے
پہنا ديا شفق نے سونے کا سارا زيور
قدرت نے اپنے گہنے چاندي کے سب اتارے
محمل ميں خامشي کے ليلائے ظلمت آئي
چمکے عروس شب کے موتي وہ پيارے پيارے
وہ دور رہنے والے ہنگامہء جہاں سے
کہتا ہے جن کو انساں اپني زباں ميں ‘تارے’
محو فلک فروزي تھي انجمن فلک کي
عرش بريں سے آئي آواز اک ملک کي
اے شب کے پاسانو، اے آسماں کے تارو!
تابندہ قوم ساري گردوں نشيں تمھاري
چھيڑو سرود ايسا ، جاگ اٹھيں سونے والے
رہبر ہے قافلوں کي تاب جبيں تمھاري
آئينے قسمتوں کے تم کو يہ جانتے ہيں
شايد سنيں صدائيں اہل زميں تمھاري
رخصت ہوئي خموشي تاروں بھري فضا سے
وسعت تھي آسماں کي معمور اس نوا سے
”حسن ازل ہے پيدا تاروں کي دلبري ميں
جس طرح عکس گل ہو شبنم کے آرسي ميں
آئين نو سے ڈرنا ، طرز کہن پہ اڑنا
منزل يہي کھٹن ہے قوموں کي زندگي ميں
يہ کاروان ہستي ہے تيز گام ايسا
قوميں کچل گئي ہيں جس کي رواروي ميں
آنکھوں سے ہيں ہماري غائب ہزاروں انجم
داخل ہيں وہ بھي ليکن اپني برادري ميں
اک عمر ميں نہ سمجھے اس کو زمين والے
جو بات پا گئے ہم تھوڑي سي زندگي ميں
ہيں جذب باہمي سے قائم نظام سارے
پوشيدہ ہے يہ نکتہ تاروں کي زندگي ميں

غلاموں کے ليے

22 March 2010

غلاموں کے ليے

حکمت مشرق و مغرب نے سکھايا ہے مجھے
ايک نکتہ کہ غلاموں کے ليے ہے اکسير
دين ہو ، فلسفہ ہو ، فقر ہو ، سلطاني ہو
ہوتے ہيں پختہ عقائد کي بنا پر تعمير
حرف اس قوم کا بے سوز ، عمل زار و زبوں
ہو گيا پختہ عقائد سے تہي جس کا ضمير!

صقليہ …جزيرہ سسلي

22 March 2010

صقليہ
( جزيرہ سسلي(

رو لے اب دل کھول کر اے ديدہء خوننابہ بار
وہ نظر آتا ہے تہذيب حجازي کا مزار
تھا يہاں ہنگامہ ان صحرا نشينوں کا کبھي
بحر بازي گاہ تھا جن کے سفينوں کا کبھي
زلزلے جن سے شہنشاہوں کے درباروں ميں تھے
بجليوں کے آشيانے جن کي تلواروں ميں تھے
اک جہان تازہ کا پيغام تھا جن کا ظہور
کھا گئي عصر کہن کو جن کي تيغ ناصبور
مردہ عالم زندہ جن کي شورش قم سے ہوا
آدمي آزاد زنجير توہم سے ہوا
غلغلوں سے جس کے لذت گير اب تک گوش ہے
کيا وہ تکبير اب ہميشہ کے ليے خاموش ہے؟
آہ اے سسلي! سمندرکي ہے تجھ سے آبرو
رہنما کي طرح اس پاني کے صحرا ميں ہے تو
زيب تيرے خال سے رخسار دريا کو رہے
تيري شمعوں سے تسلي بحر پيما کو رہے
ہو سبک چشم مسافر پر ترا منظر مدام
موج رقصاں تيرے ساحل کي چٹانوں پر مدام
تو کبھي اس قوم کي تہذيب کا گہوارہ تھا
حسن عالم سوز جس کا آتش نظارہ تھا
نالہ کش شيراز کا بلبل ہوا بغداد پر
داغ رويا خون کے آنسو جہاں آباد پر
آسماں نے دولت غرناطہ جب برباد کي
ابن بدروں کے دل ناشاد نے فرياد کي
غم نصيب اقبال کو بخشا گيا ماتم ترا
چن ليا تقدير نے وہ دل کہ تھا محرم ترا
ہے ترے آثار ميں پوشيدہ کس کي داستاں
تيرے ساحل کي خموشي ميں ہے انداز بياں
درد اپنا مجھ سے کہہ ، ميں بھي سراپا درد ہوں
جس کي تو منزل تھا ، ميں اس کارواں کي گرد ہوں
رنگ تصوير کہن ميں بھر کے دکھلا دے مجھے
قصہ ايام سلف کا کہہ کے تڑپا دے مجھے
ميں ترا تحفہ سوئے ہندوستاں لے جاؤں گا
خود يہاں روتا ہوں ، اوروں کو وہاں رلوائوں گا

Next Page »
Lingual Support by India Fascinates