شاعر مشرق
اس دور میں تعلیم ہے امراضِ ملت کی دوا
محمد اشرف بٹ بھلیسی
اس دور میں تعلیم ہے امراضِ ملت کی دوا
ہے خونِ فاسد کے لئے تعلیم مثلِ نیشتر
اقبال اگر چہ ایک باضابطہ ماہر تعلیم نہیں ہیں، لیکن اُن کی کلیات میںموجود سبھی شعری مجموعوں میںتعلیمی تصورات جابجا نمایاں ہیں۔ اقبال ایک آفاقی شاعر ہیں اور اُنہوںنے اپنی شعری صلاحیتوں کو بطور ِ خاص تعلیمی نظام اور تعلیمی مقاصد کے لئے بھی استعمال کیا ہے ۔اگرچہ دُنیا کاہر ادیب زماں ومکاں میںقید ہوتا ہے یعنی وہ ایک خاص دور کی بات کرتا ہے اور ایک خاص جغرافیائی خطےِ پر مبنی اپنے خیالات پیش کرتا ہے ۔کوشش کے باوجود وہ زماں ومکاں کی زنجیر سے آزاد نہیںہوپاتا ۔لیکن علامہ اقبال کامعاملہ ایک جُدا گانہ ہے۔اقبال کاعہد چونکہ انگریزوںکاعہد تھا پورے ملک کی سماجی‘ اقتصادی ،معاشی اور معاشرتی فضاکروٹ بدل رہی تھی ۔اگرچہ تمام ادیبوں نے حالات اوروقت کے تقاضوں کومدِ نظر رکھ کر اپنے افکار پیش کئے ۔اقبال نے بھی ان ہی درپیش حالات کومحسوس کیا لیکن اپنے افکار اس طرح پیش کئے کہ زماں ومکان کی قید سے آزاد ہوکر ہردور اورہرملک کی ضرورت کوپورا کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ وہ ہندوستان کی غلامی کوبے عملی ،بے علمیِ اور جہالت کاسبب قرار دیتے ہیں ۔اقبال تعلیم وتربیت کے ساتھ ساتھ عمل کوزیادہ تر جیح دیتے ہیں۔اُن کے نزدیک ہر طرح کی تربیت رائیگاں ہے اگراُس پرعمل نہ کیاجائے اوراپنے ذوق ِ وجدان کوکام میں لانا ہی سب سے بڑی کامیابی ہے عملی طورپراپنے آپ کواستعمال میں لانا ہی علم کی سب سے بڑی منزل ہے۔ اُن کے نزدیک زندگی فطرتاً نہ ہی نیک ہے اورنہ ہی بد،بلکہ یہ سب اعمال کانتیجہ ہے ۔بقول شاعر
عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی
یہ خاکی اپنی فطرت میںنہ نوری ہے نہ ناری ہے
علامہ اقبال روحانیت کے بھی بہت قائل ہیں،اگر ان کو Spritualist (Naturalist) اورPragmatistکے علاوہ Idealistبھی کہا جائے توبے جانہ ہوگا ،لیکن تعلیمی نظام کے تیسرے پہلویعنی ماحول اور رہن سہن کوبھی بہت حد تک طلبہ کی تربیت کاذمے دار ٹھہراتے ہیں۔ وہ کسی روحانی شخصیت کاشفقت بھراہاتھ بھی کرامات سے لبریزمحسوس کرتے ہیں لیکن مکتب کی کرامت پراُنہیں کافی بھروسہ ہے۔اوّل طالب علمِ کاہونابہت ضروری ہے وہ بھی حساس اورپرجوِش طالبِ علم ۔اس کے بعد مدرس ،جوایک ناتراشے پتھرکوایک حسین شکل دینے کاہنررکھتا ہے۔ ماہرین تعلیم نے اگرچہ اب ماحول کونظام تعلیم کاتیسرا پہلوقراردیاہے۔لیکن اقبال اس تیسرے پہلو کی ترجمانی بہت پہلے سے کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ اوراسلامی نظام تعلیم سے اس کی مثالیں دے کریہ ثابت کرتے ہیں کہ اسلام فرمابرداری اورایثار وقربانی کی تعلیم ازل سے دیتا
آیاہے۔جوایک طالب علم کاخاصہ ہوتا ہے
یہ فیضانِ نظر تھا یاکہ مکتب کی کرامت تھی
سکھائے کس نے اسماعیلؑ کوآدابِ فرزندی
اقبال کاتعلیمی تصّور عشق وعقل دونوںپر مبنی ہے۔اقبال تعلیم کے حوالے سے عشق کوایک لازمی جُز قراردیتے ہیں۔کیوںکہ عشق کی تڑپ او رگری وشدت تحصیل علم میںوہ کام کرتی ہے،جوکام گھوڑا چلانے کے لئے چابک کرتا ہے۔ اس ہی لئے یہ نسبت عقل کے عشق کو پائندہ وابدی قراردیتے ہیں۔
بے خطر کود پڑا آتشِ نمرود میں عشق
عقل ہے محوِ تماشائے لبِ بام ابھی
علم وعشق
علم نے مجھ سے کہاعشق ہے دیوانہ پن!
عشق نے مُجھ سے کہاعلم ہے تخمین ِوطن!
بندئہ تخمین وطن!کرم کتابی نہ بن!
عشق سراپا حضور، علم سراپا حجاب
عشق کی گرمی سے معرکہ کائنات!
علم مقامِ صفات ،عشق تماشائے ذات!
عشق سکون وثبات ،عشق حیات وعمات!
علم ہے پیداسوال،عشق ہے پنہاں جواب
اس کامطلب یہ نہیںکہ ہمیشہ دل سے اورعشق کے فیصلے سے ہی کام لیاجائے عقل بھی علامہ اقبال کے نزدیک عشق کی پاسبانی کرتی ہے۔ جوسودورزیاںکے بارے میں ہمیشہ تگ دود کرتی ہے۔ اقبال اس بات کے بھی قائل ہیںکہ عقل رہنمائی کاکام کرتی ہے۔ اورعشق کو جلابخشی ہے۔ لیکن عقل سودوریاں میں گرفتار ہمیشہ اُلجھن کاشکار ہوتی ہے۔ بحرحال تحصیل علم میں عشق ایک وجدانی قوت ہے، جس کوبروکار لاکر طالبِ علمِ ناممکن کام انجام دے سکتا ہے،اس ہی لئے اقبال کے ہاں عشق کو عقل پر برتری حاصل ہے
لازم ہے دل کے ساتھ رہے پاسبانِ عقل
لےکن کبھی کبھی اسے تنہابھی چھوڑدے
اقبال اگرچہ بہ نسبت عقل کے عشق پرزیادہ زوردیتے ہیں ،لیکن ہمیشہ خُدا سے دلِ بینا کی طلب کرتے ہیں۔ کیوں کہ غلام کے نزدیک دل کانور کچھ اور ہے اورآنکھ کانور کچھ اور
دل بینا بھی کر خُدا سے طلب
آنکھ کا نور دِل کا نور نہیں
علم میں بھی سرور ہے لیکن
یہ وہ جنت ہے جس میں حور نہیں
گوہر نے صدف کو توڑ دیا
توہی آمادہ ظہور نہیں
اقبال کے نزدیک تحصیلِ علم کاسب سے اہم جُز یہ ہے کہ انسان کے اندر عشق کاجذبہ کارفرما ہو۔اُنکے سامنے تعلیم کامقصد یہ ہے کہ جس طرح ایک گوہر صدف کے اندر مختلف آلام ومصائب جھیل کراور مختلف مراحل سے گزر کرظہورپذیر ہوتا ہے اورپھر وہ اپنی اصل شناخت ظاہر کرسکتا ہے۔ اُسی طرح ایک طالب ِ علم بھی علم کی تکمیل کے بعد اپنا اصلی جوہرسامنے لاتا ہے۔اوردُنیا کے سامنے اپنا وجود ظاہرکرسکتا ہے۔ تاکہ وہ اپنی بات دُنیا کے سامنے کہہ سکے اورمنواسکے۔
علامہ اقبال غوروفِکر کے عادی تھے وہ کبھی بھی تفکر سے چھٹکارہ نہیںپاسکتے تھے۔ افکارِ پر یشاں کوجلابخشی اورایک کامیاب راہ پر گامزن کرنے کے لئے اقبال مرشدِ کامل اورمدرس سے کاسہارا لیناچاہتے تھے۔ اپنے دور کے تعلیمی ادراروںمیںانہیں فکرِ وفلسفہ ناپید دیکھائی دیتا ہے۔اور ہمیشہ شکایت کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیںکہ افکار پریشان کیوںکر کارگر ثابت ہوسکتے ہیں جبکہ کسی مرشدِ کامل کاسایہ طالب علم پرنہ ہویامدرسہ افکار کی رعنائی واسرار کی لذت سے بے نیاز ہو ۔بقول ِ اقبال
مکتبوں میںکبھی رعنائی افکار بھی ہے
خانقاہوں میں کہیں لذت اسرار بھی ہے
کیے ہیںفاش رموزِ قلندری میںنے
کہ فِکر مدرسہ و خانقاہ ہو آزاد
علامہ اقبال آنے والے کل کی ذمہ داری بھی تعلیم کے سردیتے ہیں۔ملک وقوم کی تقدیر اگر چہ بدلنی مقصود ہے تو مدرسہ ومکتب اس کی ذمے دار بہت حد تک ہے اقبال کے بقول مستقبل چاہیے قوموں کاہویاکسی ایک فردواحدکا ،ماضی اورحال کے ساتھ اس کی ذمہ دارتعلیم ہوتی ہے۔ مستقبل کوسنوارنے اور نکھارنے کے لئے ماضی اور حال دونوں کی کوششیں بروئے کار لائی جاسکتی ہیں لیکن اس بات کوسمجھنے کےلئے علامہ چشمِ بنا کاتصور پیش کرتے ہیں ۔ازل سے یہ بات غورطلب ہی نہیںبلکہ بہت اہم بھی ہے کہ حالات اورزمانے کے بدلے واقعات کومحسوس کیاجائے ،زمانے کے تقاضوں اورزمانے کی ضرورتوں کوسمجھ کر ہی انسان اپنے مستقبل کوبہتر طریقے سے سنوار سکتا ہے علامہ اقبال مکتب کے ذمے یہ کام بھی سونپتے ہیں کہ آنے والے کل کے تقاضوں کوسمجھ کر اُن تمام ضرورتوںکوپورا کیاجائے ،جو حالات ووقت کاتقاضا ہو۔اقبال کوبیسویں صدی کے ابتدائی مدرسوں او رمکتبوںسے شکایت ہے کہ وہ ہنگامہ فردا کی لذت سے قطعاً محروم ہیں۔بقول اقبال
کس کو معلوم ہے ہنگامئہ فردا کامقام
مسجد ومکتب ومے خانہ ہیں مدت سے خاموش
جہاں تک چشمِ بینا کاتعلق ہے ،اس کے وجود اوراس کی تکمیل کے لئے بھی مکتب کی ہی کرامات درکار ہیں۔مکتب اپنی کرامات اوراپنے موثر کردار سے ایک ناتراشے پتھر سے ہےراتیار کرتا ہے ،اور کندذہن کوذہن رِسا عطا کرکے بڑے بڑے عالم وحکیم اُمت پیدا کرتا ہے۔اقبال نے بصیرت کی جس آنکھ کاذکر کیا ہے،وہ آنکھ ہی زمانے اور حالات کے بدلتے تقاضوں کومحسوس کرسکتی ہے، اوروہ بصیرت کی آنکھ مکتب ومدرسہ کی ہی کرامات وجلوے پر منحصر ہے۔
پردوں میںچھپا کیا ہے چشمِ بینا دیکھ لیتی ہے
زمانے کی طبیعت کا تقاضا دیکھ لیتی ہے
اقبال تعلیم کی ہمہ گیر ترقی ونشونماکے قائل ہیں۔تعلیم وتربیت سے ‘اُن کی رائے یہ ہے کہ زندگی کے تمام پہلوں کی نشوونماہو ۔ ملک وقوم اورہر فرد وبشر کے تقاضے نظام تعلیم سے سنوارے جائیں۔ اُن کاتعلیمی مقصد یہ ہے کہ ہر انسان کی زندگی اُس کاایک انفرادی حادثہ نہیںہے۔بلکہ یہ ایک اجتماعی حصہ داری ہے جس میںسماج کے ہر فردوبشرکی مداخلت ہوسکتی ہے۔ ایک انسان اپنی انفرادی زندگی سے سینکڑوں چہروں سے مسکراہٹ چھین بھی سکتا ہے اور اُن کے مغموم لبوں پر تبسم کی لہر بھی دوڑاسکتا ہے۔ اقبال کے ہاں ہمہ گیر نشوونما ترقی کامطلب بھی یہ ہے کہ انسان زندگی کے ‘سیاسی ،سماجی معاشی اور اخلاقی وغیر تمام پہلوں کی یکساںنشوونما ہو ۔لیکن اس ترقی کے سلسلے میں اقبال کبھی بھی پرانی قدروں سے بے زار نہیں ہوتے۔وہ کبھی بھی اپنے تہذیب وتمدن کے اثاثے کوکھونا نہیں چاہتے۔
لڑکیاں پڑھ رہی ہیں انگریزی
ڈھونڈلی قوم نے فلاح کی راہ
روشِ مغربی ہے مدِ نظر
وضعِ مشرق کو جانتے ہیں گناہ
یہ ڈراما دکھائے گا کیا سین
پردہ اُٹھنے کی منتظر ہے نگاہ
دیارمغرب کے رہنے والوخُدا کی بستی دکاں نہیںہے
کھراجسے تم سمجھ رہے ہووہ اب ذرِ کم عیارہوگا
تمہاری تہذیب اپنے خنجر سے آپ ہی خود کشی کرے گی
جوشاخِ نازک پہ آشیانہ بنے گاناپائیدارکاہوگا
اقبال کی شاعری کاعہدانیسویںصدی کی آخری دہائی اوربیسویںصدی کااوائل عہد تھا ۔اقبال نے اُس زمانے کے سماجی،سیاسی اورمعاشی قدرے تمام حالات اپنی تحریروںمیںپیش کئے ہیں۔ شعراءجوکہ حساس دل ہوتے ہیں اورہربات کوتہہ تک محسوس کرتے ہیں۔اقبال چونکہ دانائے راز، حکیم اُمت اورتفکرِ قوم تھے۔ اُنہوںنے اپنی چشم بیناسے ایسے دور کے مدرسوں کی سیاسی اورتعلیمی صورتِ حال کاجائزہ لیا ہے اوروہ کسی بھی صورت میںمدرسوں کوسیاست کاشکار ہوتے ہوئے دیکھنا نہیں چاہتے۔ مدرسہ کی آزادی ہی اُن کے نزدیک ترقی کی ضامن ہے ۔اقبال مدرسہ کوکبھی بھی مطلب پرستی اورخود غرضی کے لئے استعمال نہیں کراناچاہتے ۔بلکہ مدرسہ اپنی آزادی اورخودمختیاری کی بنیادوں پر سماج کے ہر فردوبشر کی ضرورتوں کوپور اکرنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔ اُنہیں ہمیشہ ،بہ نسبت ماضی کے اپنے دور کے مدرسوں پرشکایت ہے جوفریب،مطلب پرستی اورخودغرضی کاشکارہوئے ہیں
تھا جہاں مدرسہ شیری و شاہنشاہی
آج ان خانقاہوں میں ہے فقط روباہی
جلوتےانِ مدرسہ کورنگاہ ومردہ ذوق
خلوتیان میکدہ کم طلب و تہی کُدو
اقبال ہمیشہ مدرسوںاورمکتبوں سے نالاں رہے جہاں ملوکانہ تعلیم کے بجائے معکومی کی تعلیم دی جاتی ہے ۔یہ شکایت اُنہیں ہمیشہ رہی اوردم آخر تک اس کاازالہ نہ ہوسکا ۔ مدرسوں میںمحکومی کی تربیت طلبہ کے حق میں زہر ہے او راس طرح اُن کی خودی اُجاگر ہونے کے بجائے تلف ہوکررہتی ہے۔
ہندی مکتب
اقبال !یہاں نام نہ لے علمِ خودی کا
موزوںنہیں مکتب کے لئے ایسے مقالات
بہتر ہے کہ بچارے ممولوں کی نظر سے
پوشیدہ رہیں باز کے احوال ومقامات
آزاد کی اک آن ہے محکوم کااک سال
کس درجہ گراں سےر ہیںمحکوم کے اوقات
آزاد کاہر لخط پیام ِابدیت
محکوم کاہر لحظ نئی مرگِ مفاجات!
آزاد کا اندیشہ حقیقت سے مُنوّر
محکوم کا اندیشہ گرفتار خرافات
محکوم کو پیروں کی کرامات کا سودا
ہے بند‘آزاد خود اک زندہ کرامات
محکوم کے حق میں ہے یہ ہی تربیت اچھی
موسیقی و صورت گری و علمِ نباتات
اقبال کی لفظ ذہانت کے بھی بہت قائل ہیںاُن کے ہاں ذہانت ایک خداداد نعمت ہے صرف تعلیم وتربیت طلبہ کوسنوارنے سے قاصر رہتی ہے اگرچہ اُن کی طبعیت سنورنے کی طرف مائل نہ ہو ۔ اقبال کی شاعری میںذہانت کے مختلف درجوں کا سراغ بھی ملتا ہے اور انسان اگرچہ خود ہی تربیت کی طرف مائل نہیںتو وہ کبھی بھی ترقی ونشوونماں کی طرف نہیں بڑھ سکتا ہے۔
نہیں طبیعت ہی جن کی مائل وہ تربیت سے نہیںسنورتے
ہوانہ سرسبز رہ کے پانی میں عکسِ سرو کنارِ جو کا
کیا ہے تُجھ کوکتابوں نے کورزوق اتنا
صبا سے بھی نہ مِلا تُجھ کوبوئے گُل کاسُراغ
بشکریہ
روزنامہ کشمیر عظمیٰ
سری نگر