علامہ اقبال کی شہرہء آفاق نظم شمع اور شاعر کا منظوم ترجمہ
علامہ اقبال کی شہرہء آفاق نظم شمع اور شاعر کا منظوم ترجمہ
منظوم ترجمہ::محمد خلیل الرحمٰن
ارضِ پاکستان ڈِسنا کا استقبال کرتی ہے
محمد خلیل الرحمٰن
‘‘بے تاب نہ ہو معرکہء بیم و رجا دیکھ’
‘آئینہء ایام میں آج اپنی ادا دیکھ’
‘تعمیرِ خودی کر اثرِ آہِ رسا دیکھ’
‘اے پیکرِ گل کوششِ پیہم کی جزاء دیکھ’
‘ہے راکبِ تقدیر جہاں تیری رضا دیکھ’
بسم للہ الرحمٰن الرحیم
زروان جو روحِ زمان و مکان ہے
مسافر اقبال کو عالمِ بالا کی سیاحت کے لیے لے جاتا ہے
پیرِ رومی نے کردیا گھائل
روح تڑپی تو رودیا مرا دل
پھر اچانک مجھے نظر آیا
ایک بادل کہ نور کا ٹکڑا
اک فرشتہ میان سے اترا
دورخی آن بان سے اترا
( ایک چہرہ تھا مثلِ آگ عیان
دوسرا دھند کی طرح پنہاں)
اک شبِ تار دوسرا تارا
ایک بیدار دوسرا سویا
رنگ بالوں کا اسکے سرخ و زرد
نیلا پیلا گلابی و الورد
شان اسکی خیال کی سی تھی
اور ظاہر تھی تیز رفتاری
ذرہ ذرہ نئی ہوا میں تھا
لمحہ لمحہ نئی فضا میں تھا
نام زروان ہے کہا اس نے
اپنا قبضہ دکھا دیا اس نے
میں نگاہوں سے گو نہاں بھی ہوں
پھر بھی ظاہر ہوں میں عیاں بھی ہوں
ہر نصیب اختیار ہے میرا
یہ زمانہ شکار ہے میرا
غنچہ گل مری وجہ سے ہے
آہِ بلبل مری وجہ سے ہے
شجرِ نو کو کمال مجھ سے ہے
ہر فراق و وصال مجھ سے ہے
ہر سزا و جزا کا حامل ہوں
تشنگی ہوں شرابِ کامل ہوں
موت بھی میں ہوں زندگی بھی میں
جشنِ عالم کی سرخوشی بھی میں
میں ہی جنت ہوں میں ہی دوزخ ہوں
میں حساب و کتابِ برزخ ہوں
ہر کسِ کیف و بود مجھ سے ہے
یہ جہانِ وجود مجھ سے ہے
میں ہی گلچیں ہوں میں ہی غنچہ ہوں
میں ہی ہر شے کی وجہِ پیدا ہوں
ہر اسیرِ طلسم ، گو میرا
ہر گھڑی ہوتا جاتا ہے بوڑھا
میں ہوں جادو نہیں ہے توڑ مرا
لی مع اللہ حرفِ توڑ مرا
کلمہِ شوق دل سے جان سے پڑھ
لی مع اللہ پھر زبان سے پڑھ
جانے کیا تھا نگاہ میں اسکی
مجھکو ہر شے جہان کی بھولی
نیا رستہ دکھا دیا اس نے
اور سب کچھ بھلا دیا اس نے
مر گیا اس جہان میں گویا
کسی بہتر جہان میں جاگا
رنگ و خوشبو کا یہ جہاں چھوڑا
نئی دنیا سے سلسلہ جوڑا
یاں کی مٹی سے مل کے خاک ہوا
کرگیا اک نیا جہاں پیدا
تن سبک اور جان تیز ہوئی
چشمِ آشوب دیدہ ریز ہوئی
ہر حقیقت جو بے نقاب ہوئی
میں نے تاروں کی نغمہ خوانی سنی
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
تمہید زمینی
حضرت مولانا روم کی روح ظاہر ہوتی ہے اور اسرارِ معراج کی شرح بیان کرتی ہے
عشقِ شہرِ جنوں ہے بے پروا
شہر میں اک چراغ جلتا تھا
دشت و کوہ و دمن میں شعلہ تھا
خلوتِ جاں میں خوب بھڑکا تھا
محرمِ راز جب کوئی نہ ملا
میں کنارے ندی کے جا پہنچا
تھا غروب آفتاب کا منظر
ساحلِ جوئے آب کا منظر
کور ذوقوں کو بھی نظر دیدے
شب کو رنگ اور بوئے سحر دیدے
دل سے باتیں نکل نکل سی گئیں
آرزوئیں مچل مچل سی گئیں
مختصر زندگی ، نصیب مرا
جاودانی نہیں، نصیب مرا
میں بھی بے اختیار گانے لگا
بے محابا غزل سنانے لگا
غزل
حضرت مولانا روم
ترجمہ: محمد خلیل الرحمٰن
لب کھول دے کہ ہے لبِ شیریں کی آرزو
پردا اٹھا کہ ہے گلِ سیمیں کی آرزو
اک ہاتھ میں ہو جام تو کاندھے پہ زلفِ یار
میداں میں مستِ رقص ہوں ، یہ میری آرزو
کہتے ہو ناز سے کہ نکل ، اب نہ تنگ کر
مت چھیڑ، مجھکو ہے یہی سننے کی آرزو
اے عقل! شوق میں ہوئی مجنوں یہی بہت
اے عشق! تیرے نالوں کے سننے کی آرزو
سیلِ رواں بھلا ہو ترا، مجھکو تو فقط
ماہی کی مثل دریا میں جانے کی آرزو
جور و ستم ملول مجھے کرگئے ترے
فرعون! ہے مجھے یدِ بیضا, کی آرزو
کل شیخ ساتھ سے مرے گزرا کہ ‘‘ اب مجھے
ہے شہرِ ناز میں کسی انساں کی آرزو
بیزار ہوں میں مردہ دلوں سے کہ اب مجھے
شیرِ خدا کی، رستمِ دوراں کی آرزو
میں نے کہا کہ میں بھی تو جویا ہوں اس کا یاں
کہنے لگا کہ ہے اسی انساں کی آرزو
(رومی)
شام ہوتے ہی سوگئیں لہریں
اور ظلمت میں کھو گئیں لہریں
شام نے پھر چرائی ایک کرن
اک ستارہ جو شب کی تھا دلہن
روحِ رومی یوں سامنے آئی
جھلک اپنی یوں مجھکو دکھلائی
چہرہ سورج کی طرح تھا روشن
تھی جونی پہ پیری سایہ فگن
نورِ سرمد سے تن منور تھا
سرمدی نور کا وہ پیکر تھا
لب پہ ان کے وجود کے تھے راز
کھولے دیتی تھی راز یہ آواز
مثلِ آئینہ ان کے لفظ عیاں
سوزِ دل جن میں ہوگیا پنہاں
(دیکھ کر ان کو میں بھی کھِل اٹھّا
اورر پھر ان سے یہ سوال کیا)
کیا ہے موجود اور نا موجود؟
کیا ہے محمود اور نا محمود؟
بولے موجود چاہتا ہے نمود
جس کے انداز سے عیاں ہو وجود
زیست مثلِ عروس سجتی ہے
نظرِ شاہد میں خود ہی جچتی ہے
حق نے محفل بھی اک سجائی تھی
اپنے ہونے پہ داد چاہی تھی
( جس کو روزِ الست کہتے ہیں
ہم جسے اب بھی یاد کرتے ہیں)
زندگی، موت و جانکنی کے لیے
تین شاہد تلاش کر لیجے
پہلا شاہد ہے خود شعور اپنا
خود کو دیکے ہے خود ہی نور اپنا
کیا ہے معراج؟ آرزوئے حبیب
امتحان اپنا روبروئے حبیب
ایسی شاہد کی جنبشِ ابرو
جیسے ہو پھول کے لیے خوشبو
اس کی محفل میں کس کی تاب و مجال
ہاں بجز اھلِ مرتبہ و کمال
ذرہ گر ہے، چمک کو ہاتھ میں رکھ
بلکہ اپنی گرہ میں تھام کے رکھ
اس پہ کچھ اور تاب اپنی بڑھا
سامنے مہر کے اسے چمکا
نغمہ ملائک
ترجمہ: محمد خلیل الرحمٰن
طلعتِ مشتِ خاک سے اک دن
یہ زمیں ایسے جگمگائے گی
اس کی تقدیر کے ستارے سے
کچھ نئے آسماں بنائے گی
فکرِ آدم کی حد کا کیا کہنا
نگہ کی حد سے دور جائے گی
گر کھٹکتا سا آج عنواں ہے
اس کی موزونیت بتائے گی
خالقِ کائینات کی مرضی
شانِ آدم کو یوں بڑھائے گی
روح ِ خالق بھی جھوم جائے گی
اپنے شہکار کو سجائے گی
تمہیدِ آسمانی
از
محمد خلیل الرحمٰنآفرینش (کائینات) کے روزِ اوّل آسمان کا زمین کو ملامت کرنا
غیب و حاضر کے سب ہوئے ساماں
زندگی نے سجادیا یہ مکاں
کرکے تارِ نفس کو خود سے جدا
رنگِ دنیا کو پھر وجود دیا
ہر طرف ذوقِ خود نمائی تھا
نعرہ اپنی خودی کا جاری تھا
چاند تاروں کو محوِ گام کیا
نور کو ان کے طشتِ بام کیا
نیلگوں آسمان پر سورج
سج گئی اس کی شان کی سج دھج
صبحِ نو
سارے عالم کو بڑھ کے گود لیا
ملکِ ّدم میں خاک اڑتی تھی
راستہ وہ کسی کا تکتی تھی
کوئی دریا یہاں نہ بیچارہ
کوئی بادل پھرے تھا آوارہ
نہ ہی شاخوں پہ کوئی چڑیا تھی
نہ ہرن کی تھی تیز رفتاری
بحر و بر نور کے بنا تھے یہاں
چھایا ہرجا تھا ایک اٹھتا دھواں
نہ ملا تھا بہار سے سبزا
سر چھپاکر تھا گود میں سویا
آسماں نے زمیں کو طعنہ دیا
اسکی اس بے کسی کا ذکر کیا
مانگے تانگے کی روشنی ہے تری
روشنی تیری کوئی اپنی نہیں
تو بجز خاک ، ہو نہیں سکتی
نورِ افلاک ہو نہیں سکتی
یا تو شاہانہ دلبری کرجا
ورنہ اس کمتری سے، جا مر جا
شرم سے یہ زمین پانی ہوئی
نا امیدی و دلگرانی ہوئی
ایسے تڑپی کہ ہل گیا گردوں
آئی آواز آسماں سے یوں
تو امانت سے بے خبر ہے امین
دیکھ اپنے ضمیر میں بھی زمین
زندگی سے ہے روشنی تیری
اس کے دم سے ہے دلبری تیری
مہر داغی ہے صبح کے دم سے
تیری رونق ہے نورِ آدم سے
روح کا نور یوں سفر میں ہے
مہر کی روشنی حضر میں ہےنورِ آدم تری ہی خاک سے ہے
عقلِ آدم جہاں کا فاتح ہے
عشق ہر لامکاں کا فاتح ہے
فکر پہنچے بغیر رہبر کے
آنکھ ہے تیز تر فرشتے سے
ہر فرشتے سے تیز اڑتا ہے
آسماں اک رباط جیسا ہےجیسے ریشم میں ہو سوئی کی چبھن
دھوئے گا وہ جہاں کے داغِ کہن
نور سے اسکے آسماں روشن
گرچہ تسبیح خود کرے گا کم
کوچوانِ جہانِ کیف و کم
نورِ عین اسکا یہ جہاں ہوگا
کار فرما کسی کو دیکھے گا
جس کا معشوق ہے خدا کی ذات
ہیں تصّرف میں اسکے موجودات
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
مناجات
رنگ کے اس جہان میں انساں
ہر گھڑی آ ہ بھرتا رہتا ہے
محرمِ را ز کی ضرورت ہے
نالے اپنے بلند کرتا ہے
آب و گِل کا یہ عالمِ ویراں
کیسے کہدوں کہ یہ بھی سنتا ہے۔
آسمان و زمین گونگے ہیں
چاند حیرانگی سے تکتا ہے۔
آسماں پر ہجوم تاروں کا
ہر ستارہ جہاں پہ تنہا ہے۔
ہر ستارہ، ہر ایک بیچارا
نیلگوں آسماں میں بھٹکا ہے۔
کوئی ساماں سفر کا ساتھ نہیں
آسمانوں سے دور جانا ہے۔
بھولے بسرے کوئی اسیر ہیں ہم
یا کسی نے شکار ہانکا ہے۔
آہ بھر بھر کے اور رو رو کر
اپنے ہمدم کو میں نے ڈھونڈا ہے۔
روشنی جس کی چارسو پھیلی
روزِ روشن کو ایسے دیکھا ہے۔
اس کا دار و مدار سورج ہے
دن کے اور رات کے سوا کیا ہے۔
ہے خوشا روز جس کی صبحِ مسا
رات سے، شام سے مبّرا ہے۔
ایسا دن جس میں ہم یہ کہہ سکتے
ہم نے آواز کو بھی دیکھا ہے۔
غیب کو جو حضور میں بدلے
ایسا دن جو ہنر میں یکتا ہے۔
اے خدا پھیر دے مرے دن کو
دے مجھے دن، کہ تو ہی داتا ہے۔
ھاں وہ تسخیر کی تو آیت تھی
شانِ آدم کا کیا ہی کہنا ہے۔
نام سارے سکھا دیے جس کو
جو شرابِ الست پیتا ہے۔
محرمِ راز جس کو ٹھرایا
جو زمیں پر ترا خلیفا ہے۔
ھاں پکارو مجھے ، کہا تھا نا
کس سے کہتے تھے، کون سنتا ہے۔
تیرے دیدار کا جو طالب تھا
اب اسی سے یہ کیسا پردا ہے
سو شعاعیں بکھیر دے سورج
اس میں سورج کا کچھ بھی جاتا ہے؟عقل زنجیرِ پا بنی ہے آج
جاںِ بے تاب میری کس جا ہے
زندگی مدتوں تڑپتی ہے
آدمی ایک، تب ہی آتا ہے۔
میں یہ کہدوں اگر برا نہ لگے۔
ایسی بنجر زمین کا کیا ہے۔
ایک بھی دل اگر ہو یاں پیدا
حاصلِ زیست ہی یہ پیدا ہے۔
چاند میرے ، مری زمیں پرآ
دل مرا، ایک تیرا شیدا ہے۔
خوف بجلی کو کیا ہے گرنے سے
آگ کاکام تو جلانا ہے۔
میں جیا تیرے ہی فراق میں تھا
اب بتادے مجھے پرے کیا ہے۔
کھول دے راز اب کہ یہ خاکی
رازداں قدسیوں کا بنتا ہے
عشق کی آگ دل میں پیدا ہے
تیرا شاعر ترا ہی شیدا ہے۔اپنی الفت کا عود سلگادے
اس کی خوشبو جہاں میں پھیلا دے۔
آتشِ شوق یونہی گرمادے
اک نگاہِ غلط سے تڑپادے
کم نگاہی پہ جستجو میری
آرزو ہے کہ چشمِ بینا دے
یا مری جان قبض کرلے آ
یا مجھے دیدہ تماشا دے
بے ثمر فکر کا شجر ہے مرا
کاٹ دے یا گلِ تمنا دے۔
عقل دی ہے ، دلِ جنونی دے
اور اک جذبِ اندرونی دے۔
علمِ حق سوچ کی نیام میں ہے
عشقِ ھو قلبِ لا ینام میں ہے۔
علم ہے عشق کے بنا بے کار
ہے تماشائے خانہ افکار
علم بس سامری کا جادو ہے
روحِ جبریل ہو تو خوشبو ہے۔
مردِ دانا ہے نور کا محتاج
مرد ناداں ہوا یونہی تاراج
ہے بجز نور زندگی دکھ درد
دینِ مجبور اور عقلِ سرد
یہ جہاں ، کوہ و دشت و بحر و بر
میں ہوں مشتاقِ دید اور یہ خبر
شوقِ نظاّرہ کو نظارا دے
مجھ کو منزل کا اک اشارہ دے
گرچہ خاکی ہوں ، پائی تابِ کلام
پھر بھی اظہار میں رہا ناکام
راہ بھٹکا مسافرت میں غریب
پھر دے آواز یونہی اِنّی قریب
یہ شمال و جنوب اور یہ جہات
کردے آزاد ان سے ربِّ ثبات
مہر سے، ماہ سے ، ستاروں سے
کردے آزاد ان نظاروں سےتو ہے اک نور میں ہوں ایک شرا ر
چند سانسیں مری ہیں، وہ بھی ادھار
موت تجھ کو نہیں اے مالکِ کون
رشک کرتا ہوں تجھ پہ ، میں ہوں کون
میں ہوں آفاق گیر و بے صبرا
ہجر میں، وصال میں کروں جھگڑا
زیست کو میری جاودانی کر
میں زمینی ہوں آسمانی کر
میری گفتار میں اثر دیدے
میرے کردار میں گہر دیدے
فکر میری نہ اس جہاں کی ہے
یہ کسی اور آسماں کی ہے
میں سمندر ہوں مجھ میں طوفاں ہیں
میرے پیراک میرے جاناں ہیں
ایک عرصے سے ہوں میں فکروں میں
میرے ساتھی نہیں ہیں بوڑھوں میں
میں ہوں نومید ان بزرگوں سے
میری امید ہے جوانوں سے
ان جوانوں کو میرے تڑپا دے
میرے فکر و سخن کو پھیلادے
مناجات
آدمی اندر جہان ہفت رنگ
ہر زمان گرم فغان مانند چنگ
آرزوی ھم نفس می سوزدش
نالہ ہای دل نواز آموزدش
لیکن این عالم کہ از آب و گل است
کی توان گفتن کہ دارای دل است
بحر و دشت و کوہ و کہ خاموش و کر
آسمان و مہر و مہ خاموش و کر
گرچہ بر گردون ہجوم اختر است
ہر یکی از دیگری تنھا تر است
ہر یکے مانند ، بیچارہ ایست
در فضای نیلگون آوارہ ایست
کاروان برگ سفر ناکردہ ساز
بیکران افلاک و شب ہا دیر یاز
این جہان صید است و صیادیم ما
یا اسیر رفتہ از یادیم ما
زار نالیدم صدائے برنخاست
ہم نفس فرزند آدم را کجاست
دیدہ ام روز جہان چار سوی
آنکہ نورش بر فروزد کاخ و کوی
از رم سیارہ ئی او را وجود
نیست الا اینکہ گوئی رفت و بود
ای خوش آن روزی کہ از ایام نیست
صبح او را نیمروز و شام نیست
روشن از نورش اگر گردد روان
صوت را چون رنگ دیدن میتوان
غیب ہا از تاب او گردد حضور
نوبت او لایزال و بے مرور
ای خدا روزی کن آن روزی مرا
وارہان زین روز بے سوزی مراآیۂ تسخیر اندر شأن کیست؟
این سپہر نیلگون حیران کیست؟
رازدان علم الاسما کہ بود
مست آن ساقی و آن صہبا کہ بود
برگزیدے از ہمہ عالم کرا؟
کردی از راز درون محرم کرا؟
ای ترا تیری کہ ما را سینہ سفت
حرف از ’’ادعونی‘‘ کہ گفت و با کہ گفت؟
روی تو ایمان من قرآن من
جلوہ ئی داری دریغ از جان من
از زیان صد شعاع آفتاب
کم نمیگردد متاع آفتاب
عصر حاضر را خرد زنجیر پاست
جان بیتابی کہ من دارم کجاست؟
عمر ہا بر خویش می پیچد وجود
تا یکی بیتاب جان آید فرود
گر نرنجے این زمین شورہ زار
نیست تخم آرزو را سازگار
از درون این گل بی حاصلی
بس غنیمت دان اگر روید دلی
تو مہے اندر شبستانم گذر
یک زمان بی نوری جانم نگر
شعلہ را پرہیز از خاشاک چیست؟
برق را از برفتادن باک چیست؟زیستم تا زیستم اندر فراق
وانما آنسوی این نیلی رواق
بستہ در ہا را برویم باز کن
خاک را با قدسیان ہمراز کن
تمہید آسمانے
نخستین روز آفرینش
نکوہش می کند آسمان زمین را
زندگی از لذت غیب و حضور
بست نقش این جہان نزد و دور
آنچنان تار نفس از ہم گسیخت
رنگ حیرت خانۂ ایام ریخت
ہر کجا از ذوق و شوق خود گری
نعرۂ ’’من دیگرم ، تو دیگری‘‘
ماہ و اختر را خرام آموختند
صد چراغ اندر فضا افروختند
بر سپہر نیلگون زد آفتاب
خیمۂ زر بفت با سیمین طناب
از افق صبح نخستین سر کشید
عالم نو زادہ را در بر کشید
ملک آدم خاکدانی بود و بس
دشت او بی کاروانی بود و بس
تمہید زمینی
آشکارا می شود روح حضرت رومی و شرح میدہد اسرار معراج راعشق شور انگیز بی پروای شہر
شعلۂ او میرد از غوغای شہر
خلوتے جوید بدشت و کوہسار
یا لب دریای ناپیدا کنار
من کہ در یاران ندیدم محرمی
بر لب دریا بیاسودم دمی
بحر و ہنگام غروب آفتاب
نیلگون آب از شفق لعل مذاب
کور را ذوق نظر بخشد غروب
شام را رنگ سحر بخشد غروب
با دل خود گفتگوہا داشتم
آرزوہا جستجوہا داشتم
آنے و از جاودانی بی نصیب
زندہ و از زندگانی بی نصیب
تشنہ و دور از کنار چشمہ سار
می سرودم این غزل بی اختیار
غزل
بگشای لب کہ قند فراوانم آرزوست
بنمای رخ کہ باغ و گلستانم آرزوست
یک دست جام بادہ و یک دست زلف یار
رقصی چنین میانۂ میدانم آرزوست
گفتی ز ناز بیش مرنجان مرا ، برو
آن گفتنت کہ بیش مرنجانم آرزوست
ای عقل تو ز شوق پراکندہ گوی شو
ای عشق نکتہ ہای پریشانم آرزوست
این آب و نان چرخ چو سیل است بیوفا
من ماہیم نہنگم و عمانم آرزوست
جانم ملول گشت ز فرعون و ظلم او
آن نور جیب موسی عمرانم آرزوست
دی شیخ با چراغ ہمی گشت گرد شہر
کز دیو و دد ملولم و انسانم آرزوست
زین ہمرہان سست عناصر دلم گرفت
شیر خدا و رستم دستانم آرزوست
گفتم کہ یافت می نشود جستہ ایم‘
گفت آنکہ یافت می نشود آنم آرزوست
رومی